مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ایران کی وزارت خارجہ نے لارک جزیرے پر امریکی فوجی حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے ایران کی قومی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔
ایرانی وزارت خارجہ کی جانب سے پیر کی صبح جاری ہونے والے بیان کے مطابق امریکی فوج نے اتوار کی شام لارک جزیرے کے بعض علاقوں کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں کئی ایرانی فوجی اہلکار اور شہری شہید اور زخمی ہوئے جبکہ سرکاری و نجی املاک کو بھی نقصان پہنچا۔
بیان میں کہا گیا کہ حملے میں وطن کے بہادر محافظوں اور ایرانی شہریوں کو جانی نقصان پہنچا ہے۔ امریکی حملے اقوام متحدہ کے منشور کی دفعہ 2(4) کی واضح خلاف ورزی اور قابل مذمت ہیں۔
ایرانی وزارت خارجہ کے مطابق ایرانی مسلح افواج نے اپنے دفاع کے فطری حق کے تحت اردن میں موجود امریکی فوجی اڈوں پر دفاعی اور فیصلہ کن ضربیں لگائیں۔ یہی اڈے ایران کے خلاف امریکی فوجی جارحیت کے لیے معاونت اور کارروائی کا ذریعہ بن رہے تھے۔
وزارت خارجہ نے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل، سلامتی کونسل کے صدر اور ان تمام ممالک کو، جنہوں نے خلیج فارس اور آبنائے ہرمز میں عدم تحفظ پر تشویش کا اظہار کیا ہے، آگاہ کیا کہ خطے میں بحری آمدورفت کے غیر محفوظ ہونے کی واحد وجہ امریکہ اور اسرائیل کی غیر قانونی اور جارحانہ کارروائیاں ہیں۔
ایرانی وزارت خارجہ نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل اور سیکریٹری جنرل پر زور دیا کہ وہ بین الاقوامی امن و سلامتی کے تحفظ اور جارحیت کے ذمہ دار فریق کو جواب دہ ٹھہرانے کی اپنی ذمہ داری پوری کریں۔
وزارت خارجہ نے خبردار کیا کہ ایرانی مسلح افواج اپنے دفاع کے فطری حق کے استعمال سے ہرگز گریز نہیں کریں گی اور دشمن کی جانب سے کسی بھی نئی فوجی جارحیت کا فیصلہ کن اور مناسب جواب دیا جائے گا۔
ایرانی وزارت خارجہ نے مزید کہا کہ امریکہ کی جانب سے نئی جارحانہ کارروائیوں، بحری ناکہ بندی اور ایران کے خلاف جاری اقتصادی جنگ کے تمام نتائج کی مکمل ذمہ داری امریکی حکومت اور ان تمام فریقوں پر عائد ہوگی جو امریکہ کی غیر قانونی کارروائیوں کی تیاری اور ان پر عمل درآمد میں شریک ہیں۔
آپ کا تبصرہ